ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / یو پی: استعفیٰ دینے والے سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی کو پولیس نے جبراً اسپتال میں کرایا داخل

یو پی: استعفیٰ دینے والے سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی کو پولیس نے جبراً اسپتال میں کرایا داخل

Sat, 06 Nov 2021 21:52:10    S.O. News Service

لکھنؤ،6؍نومبر(آئی این ایس انڈیا) اتر پردیش واقع امیٹھی کے گوری گنج سے سماجوادی پارٹی رکن اسمبلی پرتاپ سنگھ اپنے حلقہ کی دو سڑکیں نہ بننے سے ناراض ہیں۔ انھوں نے اپنی اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اسی ایشو کو لے کر وہ جی پی او پر دھرنا دے رہے ہیں۔ ان کو جمعہ کی شب ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی (سول) اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ بھوک ہڑتال کر رہے سماجوادی پارٹی رکن اسمبلی راکیش پرتاپ سنگھ کو رات میں پولیس نے اٹھایا۔ انھیں سول اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ انھیں جبراً ڈرِپ بھی لگائی گئی ہے۔

پرتاپ سنگھ نے اس بات کی جانکاری خود سوشل میڈیا پر دی ہے۔ انھوں نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ’’اتر پردیش حکومت کی تاناشاہی۔ کل رات تقریباً 12 بجے مجھے انتظامیہ اور پولیس کے ذریعہ جھوٹی رپورٹ پر جبراً سول اسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ سول اسپتال کا انتظام بے حد خراب ہے۔ اس اسپتال میں بنیادی سہولیات بھی موجود نہیں ہیں۔ کیا اتر پردیش کی حکومت سے ایک رکن اسمبلی اپنے علاقے کی سڑک کے لیے مطالبہ بھی نہیں کر سکتا ہے؟ یہ تاناشاہ حکومت عوام کی آواز دبانا چاہتی ہے، لیکن ہم یہ ہونے نہیں دیں گے۔ ہماری لڑائی آخری سانس تک جاری رہے گی۔‘‘

پرتاپ سنگھ نے مزید لکھا ہے ’’میں اپنی بھوک ہڑتال کے پہلے دن سے جمہوری طریقے سے بھوک ہڑتال پر تھا۔ نہ میری طرف سے نہ میرے حامیوں کی طرف سے کوئی ایسا عمل کیا گیا جس سے سماجی توازن بگڑے۔ حکومت و انتظامیہ کے ذریعہ مجھے جبراً سول اسپتال لایا گیا اور میرے دونوں ہاتھ باندھ کر جبراً ڈرِپ لگائی گئی ہے۔‘‘ وہ آگے لکھتے ہیں ’’کیا اپنی عوام کے لیے آواز اٹھانا گناہ ہے؟ کیا ہماری جمہوریت میں مفاد عامہ کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے؟ میں پوچھتا ہوں اس حکومت سے۔ میری تا مرگ بھوک ہڑتال عوام کے مطالبات پوری ہونے تک جاری رہے گی۔‘‘


Share: